IGNOU FREE BUDAE-181 کلاسیکی اردو غزل کا مطالعہ Solved Guess Paper 2025
Q1. اردو غزل کی تعریف، خصوصیات اور فنی ساخت پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔
اردو غزل اردو شاعری کی سب سے قدیم، مقبول اور دل نشین صنفِ سخن ہے۔ لفظ “غزل” بنیادی طور پر عربی زبان سے آیا ہے اور اس کے معنی عشقیہ گفتگو یا عورتوں سے بات کرنے کے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ صنف محض عشق و محبت تک محدود نہ رہی بلکہ زندگی کے تمام پہلوؤں—فلسفہ، تصوف، سیاست، سماج اور انسانی نفسیات—کو بھی اپنی آغوش میں سمیٹنے لگی۔
فنّی اعتبار سے غزل چند اشعار پر مشتمل ہوتی ہے، ہر شعر ایک مکمل اکائی ہوتا ہے جسے “مطلع” اور “مقطع” جیسی اصطلاحات مزید فنی تہذیب عطا کرتی ہیں۔ مطلع وہ شعر ہے جس میں دونوں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں، جبکہ مقطع وہ شعر ہے جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے۔ غزل میں بحر، ردیف، قافیہ، توازن اور موسیقیت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
غزل کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کی اضطرابی لطافت اور رمزیت ہے۔ شاعر کم الفاظ میں گہرا معنی پیدا کرتا ہے۔ مثلاً “دل”، “غم”، “وصل”، “ہجر”، “صبا”، “بادہ”، “محبوب”، “تصوف”—یہ تمام علامات کئی معنوی پرتوں کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں۔
غزل میں موضوعاتی وسعت بہت بڑی ہے۔ ابتدا میں غزل زیادہ تر عشق مجازی اور حسن و عشق کی کیفیات تک محدود تھی، مگر میر نے اسے انسانی دکھ درد اور زمانے کی بے ثباتی تک پھیلایا، غالب نے فلسفیانہ عمق دیا، جبکہ اقبال نے غزل میں خودی، انقلاب اور اجتماعی شعور کا رنگ بھرا۔
غزل کی فنی ساخت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر شعر خود مختار ہوتا ہے مگر پوری غزل ایک داخلی ہم آہنگی کے ذریعے مربوط محسوس ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے غزل کو “اشعار کا ہار” بھی کہا جاتا ہے۔
تعلیم و تدریس کے میدان میں غزل کی اہمیت اس لیے بھی ہے کہ اس کے ذریعے زبان کی لطافت، بیان کی خوبصورتی اور فکر کی گہرائی طلبہ تک منتقل ہوتی ہے۔
یوں غزل اردو ادب کی وہ صنف ہے جس نے زبان، ثقافت اور تہذیب کو نہ صرف محفوظ کیا بلکہ اسے ایک ہمہ جہتی تخلیقی جہان بھی عطا کیا۔
Buy IGNOU Solved Guess Paper With Important Questions :-
CONTACT/WHATSAPP – 88822 85078
Q2. اردو غزل کے ارتقا کے مختلف ادوار پر روشنی ڈالیں۔
اردو غزل کا ارتقا صدیوں پر محیط ہے اور اس کی جڑیں عربی قصیدہ، فارسی غزل اور دکنی ادب میں پیوست ہیں۔ ارتقائی سفر کو عموماً تین بڑے مراحل میں تقسیم کیا جاتا ہے: دکنی دور، دہلوی دور اور لکھنوی دور، اس کے بعد جدید اور ترقی پسند دور بھی نمایاں ہیں۔
دکنی دور میں قلی قطب شاہ، وجہی، غواصی اور ہاشمی جیسے شعرا نے غزل کو ہندوستانی ماحول کے مطابق ڈھالا۔ ان کی غزل میں محبت، فطرت اور لوک رنگ نمایاں تھے۔ اس دور کی سب سے اہم خصوصیت زبان کی سادگی اور دل آویزی ہے۔
دہلوی دبستان کے ساتھ اردو غزل نے ایک باقاعدہ ادبی شکل اختیار کی۔ ولی دکنی نے فارسی غزل کے اسلوب کو پہلی بار ہندوستانی تجربے کے ساتھ جوڑا، جس کے بعد اردو غزل دہلی میں ایک ادبی تحریک بن گئی۔ میر تقی میر، سودا، درد، مظہر جانِ جاناں اور دیگر شعرا نے غزل کو ایسی بلندی عطا کی کہ اسے اردو کا سنہری دور کہا جاتا ہے۔ میر کی غزل ذات کے غم، معاشرتی ٹوٹ پھوٹ اور انسانی درد کی ترجمان بنی۔
لکھنوی دور میں غزل نے نزاکت، عشوہ گری اور حسن و عشق کی نرمیوں کو اپنایا۔ آتش، ناسخ، انیس اور دبیر جیسے شعرا نے زبان کو جمالیاتی معیار تک پہنچایا۔ اگرچہ بعض ناقدین لکھنوی شاعری کو محض نزاکت تک محدود سمجھتے ہیں، لیکن اس نے غزل کی تہذیبی زیب و زینت میں اضافہ کیا۔
غالب کا دور اردو غزل کی تاریخ کا سب سے اہم موڑ ہے۔ غالب نے روایت کو توڑے بغیر نئی فکری جہتیں پیدا کیں۔ ان کی غزل میں فلسفہ، اشراقی فکر، انسانی تضاد اور کائناتی مسائل کا بیان ملتا ہے۔
اقبال کا دور غزل میں اجتماعی فکر اور خودی کے تصور کی شمولیت کا دور ہے۔ انہوں نے عشق کو محض مجازی سے نکال کر ایک انقلابی قوت کے طور پر پیش کیا۔
جدید غزل میں فراق، فیض، سحر انصاری، مجید امجد، ندا فاضلی اور جدید تر شعرا نے سماجی شعور، تنہائی، وجودیت اور نئے علامتی نظام شامل کیے۔
یوں اردو غزل کا ارتقا مسلسل تبدیلی، نکھار اور فکری وسعت کی داستان ہے۔
Q3. میر تقی میر کی غزل کی خصوصیات بیان کریں۔
میر تقی میر کو “خداۓ سخن” کا لقب دیا گیا ہے اور اردو غزل کا اصل بنیاد گزار بھی انہیں ہی مانا جاتا ہے۔ ان کی شاعری انسانی جذبات، دکھ، حساسیت اور زبان کی نرمی کا ایسا حسین امتزاج ہے جس کی مثال مشکل سے ملتی ہے۔
میر کی غزل کی سب سے نمایاں خصوصیت سوز و گداز ہے۔ میر نے عشق کو صرف ظاہری جذبہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسانی روح کا بنیادی درد قرار دیا۔ ان کے اشعار میں قلبی ٹوٹ پھوٹ، ہجر و فراق اور زندگی کی بے ثباتی بار بار سامنے آتی ہے۔ میر کا مشہور شعر:
؎ پتا پتا، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
محبت کرنے والا بھی کیا کیا سہتا ہے
یہ شعر میر کی داخلی کائنات اور جذبات کی شدت کا مظہر ہے۔
میر کی زبان سادہ مگر نہایت دلکش ہے۔ انہوں نے لفظوں کا استعمال اس طرح کیا کہ معمولی لفظ بھی گہرے معنی پیدا کرتے ہیں۔ ان کے یہاں فارسی تراکیب کم ملتی ہیں اور ہندوستانی لہجہ زیادہ نمایاں ہے، جس نے غزل کو عوامی سطح پر مقبول بنایا۔
میر کا دوسرا نمایاں پہلو حقیقت نگاری ہے۔ وہ عشق کو محض خواب و خیال نہیں بناتے بلکہ اسے زندگی کی تلخیوں سے جوڑتے ہیں۔ دہلی کی بربادی، فقر و فاقہ، معاشرتی زوال—یہ سب میر کی غزل میں جابجا دکھائی دیتا ہے۔
میر کی علامتوں میں “ویرانی”، “دل”، “ویران شہر”، “خانہ خراب”، “آنسو” بار بار استعمال ہوتے ہیں جو ان کی شخصیت کی شکستگی اور حساسیت کو ظاہر کرتے ہیں۔
ان کے ہاں تصوف بھی ملتا ہے مگر یہ تصوف فلسفیانہ کم اور تجرباتی زیادہ ہے۔ میر کا عشق دنیا سے فرار نہیں بلکہ زندگی سے جڑی ایک تکلیف دہ حقیقت ہے۔
تدریسی اعتبار سے میر کی غزل طلبہ کو زبان کی سادگی، جذبات کی گہرائی اور فکر کی لطافت کا سبق دیتی ہے۔ وہ غزل کو ایک ایسی انسانی دستاویز بنا دیتے ہیں جو ہر دور میں نئی معنویت کے ساتھ پڑھا جا سکتا ہے۔
Buy IGNOU Solved Guess Paper With Important Questions :-
CONTACT/WHATSAPP – 88822 85078=
Q4. مرزا غالب کی غزل کا فکری و فنی جائزہ پیش کریں۔
غالب اردو کے سب سے بڑے فکری شاعر مانے جاتے ہیں۔ ان کی غزل نے نہ صرف روایتی غزل کو وسعت دی بلکہ اسے ایک فلسفیانہ اور اشراقی جہت بھی عطا کی۔ غالب کی شاعری کی پہچان فلسفیانہ عمق، جدت طرازی، زبان کی پیچیدگی اور خیال کی بلندی ہے۔
غالب کے نزدیک عشق کوئی سادہ جذبہ نہیں تھا، بلکہ ایک ذہنی و روحانی کیفیت تھی جو انسان کو کائنات کے اسرار سے جوڑتی ہے۔ ان کا مشہور شعر:
؎ عشق نے غالب نکمہ کر دیا
ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
یہ چھوٹا سا شعر انسانی کمزوری، عشق کی قوت اور خود شناسی کا عکاس ہے۔
غالب نے روایتی غزل میں بڑی فکری تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ ان کے یہاں محبوب کا تصور روایتی نہیں بلکہ ایک علامت ہے—علم، کائنات، حقیقت، وجود اور ذات کی تلاش۔
زبان کے حوالے سے غالب کا اسلوب مشکل، پرت دار اور معنی خیز ہے۔ وہ الفاظ کے اندر کئی سطحوں کے معنی پیدا کرتے ہیں، اس لیے ان کی غزل کو سیکھنے کے لیے فکری تیاری ضروری ہے۔
غالب کی شاعری کا سب سے اہم پہلو تشکیک ہے۔ وہ ہر چیز پر سوال اٹھاتے ہیں، چاہے وہ قسمت ہو، عبادت ہو، دنیا ہو یا خود انسان۔
تدریسی اعتبار سے غالب کی غزل طلبہ کو تنقیدی سوچ، فلسفیانہ فکر اور زبان کے جمالیاتی استعمال کی تربیت دیتی ہے۔
Q5. اقبال کی غزل کے فکری مباحث اور اسلوب پر نوٹ لکھیں۔
اقبال کی غزل اردو شاعری میں ایک نئی فکری تحریک کا آغاز کرتی ہے۔ انہوں نے غزل کو صرف عشقیہ شاعری سے نکال کر اس میں خودی، روحانیت، حریت، عمل، انقلاب اور ملتِ اسلامیہ کی بیداری جیسے موضوعات شامل کیے۔
اقبال کی سب سے بڑی فکری دریافت “تصورِ خودی” ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسان اپنی خودی پہچان کر کائنات میں اپنی جگہ خود بناتا ہے۔ اقبال کے یہاں عشق بھی ایک فعال، انقلابی قوت ہے جو انسان کو بلندیوں تک لے جاتا ہے۔
فنی اعتبار سے اقبال کی غزل مؤثر، بلند آہنگ اور سادہ لیکن پرشکوہ زبان رکھتی ہے۔ ان کے اشعار میں خطیبانہ انداز، ولولہ اور جدت نمایاں ہے۔
اقبال نے اپنے وقت کے سیاسی حالات—جیسے زوال پذیری، غلامی، اور امت کی بیداری—کو بھی غزل کے ذریعے بیان کیا۔
یوں اقبال کی غزل تدریسی طور پر نہ صرف ادبی بلکہ سماجی و فکری تعلیم کا اہم ذریعہ ہے۔
Q6. دکنی غزل کی خصوصیات اور اس کے اہم شعرا پر گفتگو کریں۔
اردو غزل کا آغاز دکن سے ہوا اور دکنی ادب نے اردو غزل کی بنیادیں قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ دکنی غزل کی سب سے بڑی خصوصیت اس کی سادہ، عام فہم اور مقامی رنگ میں رچی ہوئی زبان ہے۔ دکن کے شعرا نے فارسی کے بجائے مقامی ہندوستانی الفاظ، لہجوں اور لہروں کو استعمال کیا جس سے غزل میں ایک قدرتی مٹھاس، سادگی اور بھرپور ثقافتی رنگ پیدا ہوا۔
دکنی غزل میں عشق، محبوب، جدائی، فطرت، برسات، لوک گیتوں اور عوامی رسوم و روایات کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ یہاں عشق زیادہ تر سچا، پاکیزہ اور سادہ ہے۔ محبوب کے حسن کو مبالغہ آرائی کے بغیر بیان کیا جاتا ہے۔ زبان میں عربی و فارسی الفاظ کم جبکہ ہندی، برج، دکنی اور تلگو کے اثرات زیادہ نظر آتے ہیں۔
ایک اور نمایاں خصوصیت روحانیت اور صوفیانہ جذبہ ہے۔ دکن کے شعرا کے ہاں عشق مجازی کے اندر عشق حقیقی کی خوشبو ملتی ہے۔ اس عہد میں غزل سماجی اور تہذیبی حوالوں سے بھی مضبوط تھی اور عام لوگوں کی زندگی کا عکس پیش کرتی تھی۔
دکنی غزل کے نمایاں شعرا میں قلی قطب شاہ سب سے اہم ہیں۔ انہوں نے غزل کو مقامی زبان اور تہذیب کے رنگ میں ڈھالا۔ ان کے اشعار میں براہِ راست سادگی، فطرت کے مناظر اور لوک جذبات نمایاں ہیں۔
دوسرے اہم شاعر محمد قلی قطب شاہ ہیں جن کی غزلوں میں محبت، فطرت اور تہذیب کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ ان کے یہاں استعارات کم اور سادگی زیادہ ہے۔
غواصی، وجہی، ہاشمی، نصرتی اور میراں ہاشمی بھی دکنی غزل کے نمایاں نام ہیں۔ ان شعرا نے غزل کو اس دور کے بول چال کی زبان کے ساتھ جوڑ کر اسے مقبول عام بنایا۔
دکنی غزل نے بعد کے دور میں دہلوی اور لکھنوی غزل کے لیے نہ صرف زبان کی بنیادیں فراہم کیں بلکہ غزل کو ایک مکمل صنف بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ آج بھی دکنی غزل کو اردو غزل کا ابتدائی، روشن اور سادہ ترین دور سمجھا جاتا ہے۔
Buy IGNOU Solved Guess Paper With Important Questions :-
CONTACT/WHATSAPP – 88822 85078
Q7. لکھنوی اور دہلوی دبستانِ غزل کا تقابلی مطالعہ پیش کریں۔
اردو غزل کے دو بڑے دبستان—دہلوی اور لکھنوی—اپنے اسلوب، زبان اور مزاج کے اعتبار سے ایک دوسرے سے نمایاں طور پر مختلف ہیں۔ دہلوی دبستان کی بنیاد ولی دکنی کے بعد میر، سودا، درد اور مظہر نے رکھی۔ اس دبستان کی شاعری میں سوز، درد، گہرائی، سادگی اور حقیقت پسندی نمایاں ہیں۔ دہلوی شعرا کا رجحان باطنی کیفیتوں، انسانی دکھ درد اور فلسفیانہ احساسات کی طرف زیادہ تھا۔
دہلوی غزل میں عشق ایک سنجیدہ، گہرا اور روحانی تجربہ ہے۔ زبان سادہ، براہِ راست اور کم تکلف ہوتی ہے۔ میر کی غزل اس دبستان کی بہترین مثال ہے جہاں سادگی کے اندر کمال کی تاثیر موجود ہے۔ دہلوی شاعری میں تصوف کا رنگ بھی نمایاں ہے۔
اس کے برعکس لکھنوی دبستان میں حسن و عشق کی نزاکتیں، تہذیبی شائستگی، نرمی، لطافت اور خوش بیانی نمایاں ہے۔ یہاں شاعری کا مرکز حسن، عشق، لباس، زیب و زینت، معاشرتی آداب اور تہذیبی لطافتیں ہوتی ہیں۔
لکھنوی شعرا—جیسے آتش، ناسخ، امیر مینائی—نے غزل کو زبان کے جمالیاتی حسن تک پہنچایا۔ رقیق الفاظ، مترنم زبان، لطیف تشبیہیں اور نزاکت بھرے خیالات لکھنوی غزل کی پہچان ہیں۔
اگر دہلوی دبستان “زندگی کی حقیقت” ہے تو لکھنوی دبستان “تہذیب کا جمال” کہلاتا ہے۔
تقابلی اعتبار سے:
-
دہلوی غزل سادگی، درد اور سوز کی علامت ہے؛ لکھنوی غزل نزاکت، آرائش اور نفاست کی۔
-
دہلوی غزل میں عشق کا تصور روحانی ہے؛ لکھنوی غزل میں عشقیہ نزاکتیں غالب ہیں۔
-
دہلوی زبان عام فہم ہے؛ لکھنوی زبان آراستہ اور پر تکلف۔
-
دہلوی شاعری کا مقصد حقیقت بیان کرنا ہے؛ لکھنوی شاعری کا مقصد حسنِ بیان پیدا کرنا ہے۔
یوں دونوں دبستان اردو غزل کی دو خوبصورت جہتیں ہیں اور دونوں نے اردو ادب کو انمول ورثہ عطا کیا۔
Q8. غزل میں ردیف، قافیہ اور تخلص کا استعمال—تشریح کریں۔
غزل کی فنی ساخت میں ردیف، قافیہ اور تخلص بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہ عناصر غزل کو موسیقیت، ترتیب، تسلسل اور حسنِ بیان عطا کرتے ہیں۔
ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو ہر شعر کے دوسرے مصرعے کے آخر میں یکساں طور پر دہرائے جاتے ہیں۔ مثلاً:
“دل میں”
“ہم میں”
“غم میں”
یہاں “میں” ردیف ہے۔ ردیف غزل کو صوتی آہنگ اور وحدت فراہم کرتا ہے۔
قافیہ وہ الفاظ ہیں جو ردیف سے پہلے ہم آواز ہوتے ہیں۔ جیسے:
دل میں
سل میں
غزل میں
یہاں “دل، سل، غزل” قافیہ ہیں، جبکہ “میں” ردیف ہے۔
قافیہ غزل کی موسیقیت کا اصل مرکز ہے۔ درست قافیہ شعری حسن بڑھاتا ہے جبکہ غلط قافیہ غزل کی جمالیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔
تخلص شاعر کا ادبی نام ہوتا ہے جو عام طور پر مقطع میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تخلص غزل میں شخصی شناخت اور انفرادیت پیدا کرتا ہے۔ مثلاً:
؎ غالب ہمیں نہ چھیڑ کہ پھر جوشِ اشک سے
بیٹھے ہیں ہم تہیۂ طوفاں کیے ہوئے
یہاں “غالب” تخلص ہے۔
تخلص شاعر کو اپنی ذات کے اظہار کا موقع دیتا ہے اور کبھی طنز، مزاح یا فلسفہ بیان کرنے میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
یہ تینوں عناصر غزل کی شناخت کو مضبوط کرتے ہیں۔ ردیف غزل کو یک رخی تسلسل دیتا ہے، قافیہ غزل کو موسیقیت دیتا ہے اور تخلص غزل کو شاعر کی شخصیت سے جوڑتا ہے۔
تدریس کے نقطۂ نظر سے طلبہ کو ردیف و قافیہ کی پہچان سکھانا ضروری ہے کیونکہ یہ شاعری کی بنیاد سمجھتے ہیں اور غزل کے مطالعے میں مدد دیتے ہیں۔
Buy IGNOU Solved Guess Paper With Important Questions :-
CONTACT/WHATSAPP – 88822 85078
Q9. کلاسیکی غزل کی تدریس کے طریقۂ کار پر تفصیلی نوٹ لکھیں۔
کلاسیکی غزل کی تدریس ایک ایسا عمل ہے جس میں زبان، تاریخ، تہذیب اور فکری گہرائی—all ایک ساتھ شامل ہوتی ہیں۔ تدریس کا مقصد صرف معنی سمجھانا نہیں بلکہ غزل کی فنی خوبصورتی، علامتوں اور تہذیبی پس منظر سے واقف کرانا بھی ہے۔
سب سے پہلے غزل کی ساخت سمجھانا ضروری ہے: مطلع، مقطع، ردیف، قافیہ، بحر، علامتیں وغیرہ۔ اس سے طلبہ غزل کو تکنیکی طور پر سمجھنے لگتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ تاریخی پس منظر واضح کرنا ہے۔ مثلاً: میر کی غزل دہلی کے زوال کے پس منظر میں ہے؛ غالب کی غزل جدید شعور اور فلسفیانہ اضطراب کی علامت ہے؛ اقبال کی غزل میں سیاسی بیداری شامل ہے۔
تیسرا مرحلہ لغات اور الفاظ کا فہم ہے۔ کلاسیکی غزل میں فارسی الفاظ، استعارات اور تشبیہیں زیادہ ہوتی ہیں، اس لیے طلبہ کو معنی سمجھانا ضروری ہے۔
چوتھا مرحلہ تشریح اور مفہوم کی وضاحت ہے۔ استاد شعر کے بنیادی معنی، علامتوں اور شعری کیفیت کی وضاحت کرتا ہے۔
پانچواں مرحلہ تقابلی مطالعہ ہے جس سے طلبہ اسلوبی فرق، دبستانوں کا امتیاز اور فکری تنوع سمجھتے ہیں۔
تدریس میں تخلیقی سرگرمیاں بھی ضروری ہیں، جیسے:
-
طلبہ کو تشبیہ و استعارات پر مبنی مثالیں دینا
-
غزل کا صوتی آہنگ سنانا
-
خود سے دو مصرعوں کا قافیہ بنوانا
-
غزل کی علامتوں پر گفتگو کروانا
یوں تدریس کا مقصد صرف یاد کرنا نہیں بلکہ غزل کی جمالیات کو محسوس کرانا ہے۔
Q10. کلاسیکی غزل میں علامتوں (Symbols) کا استعمال اور معنوی تہیں—وضاحت کریں۔
کلاسیکی غزل کی سب سے بڑی خوبصورتی اس کی علامتی زبان ہے۔ شاعر چند الفاظ کے ذریعے کئی معنوی جہتیں اور گہرے فلسفیانہ نکات پیدا کرتا ہے۔ علامتیں غزل کی روح ہیں کیونکہ انہی کے ذریعے غزل میں تخیل، رمزیت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
غزل میں عام علامتیں یہ ہیں:
محبوب—کبھی حقیقی محبوب، کبھی خدا، کبھی کائنات کی حقیقت۔
دل—نفسِ انسانی، احساس، روح۔
شراب (بادہ)—سرشاری، روحانی کیفیت، عشق کا جنون۔
صبا—امید، رحمت، محبوب کی خبر۔
گل و بلبل—حسن و عشق کا استعارہ۔
شبِ فراق—دنیا کی تکلیفیں اور روحانی جدائی۔
یہ علامتیں ظاہری معنی کے علاوہ اندرونی معنوی تہیں رکھتی ہیں۔ مثلاً غالب کی غزل میں “شراب” صوفیانہ سرور بھی ہے اور ذہنی بیداری بھی۔ میر کے یہاں “ویرانی” زندگی کے زوال کی علامت ہے۔
علامتوں کا استعمال غزل کو صرف بیان کی سطح پر نہیں چھوڑتا بلکہ اسے کثیر معنویت دیتا ہے۔ اس سے شعر میں گہرائی، ابہام اور فنی حسن بڑھتا ہے۔
تدریس کے اعتبار سے طلبہ کو علامتوں کی مختلف معنوی سطحیں سمجھانا ضروری ہے تاکہ وہ غزل کی اندرونی دنیا تک رسائی حاصل کر سکیں۔
Buy IGNOU Solved Guess Paper With Important Questions :-
CONTACT/WHATSAPP – 88822 85078
Follow For Updates: senrigbookhouse
Read Also :